صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۴ - تکبیر کے بعد دعائے استفتاح
تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۵۴
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ ، سَكَتَ هُنَيَّةً ، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے پھر قرأت کرتے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان چپ ہو جاتے ہیں تو کیا پڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِى مِنْ خَطَايَاىَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ» یعنی ”یا اللہ! دور کر دے مجھے میرے گناہوں سے جیسے دور کیا تو نے مشرق کو مغرب سے، یا اللہ! صاف کر دے مجھے میری خطاؤں سے، جیسا صاف ہوا ہے سفید کپڑا میل سے، یا اللہ! دھو دے میرے گناہوں کو برف سے اور پانی اور اولوں سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تو قرأت شروع کرنے سے پہلے تھوڑی دیر خاموش رہتے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس خاموشی میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کہتا ہوں: اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری خطاؤں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔ یہ حدیث دعائے استفتاح، نماز شروع کرنے کی دعا، اور تکبیر کے بعد دعا کے لیے بنیادی متن ہے۔ اس میں بندہ نماز کی ابتدا ہی میں اپنے گناہوں سے دوری، صفائی اور پاکیزگی مانگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی ابتدا میں اللہ سے خطاؤں کی دوری مانگنا منقول ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان دعا پڑھتے تھے۔
- بندہ نماز شروع کرتے وقت عاجزی کے ساتھ اپنی خطاؤں کی معافی مانگے۔
