صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۶ - دوسری رکعت میں قرأت کا آغاز
دوسری رکعت میں الحمد سے قرأت شروع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۵۶
قَالَ مُسْلِم : وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ وَغَيْرِهِمَا ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلَمْ يَسْكُتْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے الحمد سے قرأت شروع کرتے اور چپ نہ رہتے (یعنی دعائے استفتاح نہ پڑھتے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے تو الحمد للہ رب العالمین سے قرأت شروع کرتے اور خاموش نہ رہتے۔ ترجمہ میں وضاحت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دوسری رکعت میں دعائے استفتاح نہیں پڑھتے تھے۔ اس حدیث کا موضوع نماز کی قرأت، دوسری رکعت کا طریقہ، اور الحمد سے قرأت شروع کرنا ہے۔ اسے پچھلی دعائے استفتاح والی حدیث کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے، جہاں تکبیر تحریمہ کے بعد قرأت سے پہلے دعا کا ذکر آیا تھا۔ یہاں بات صرف دوسری رکعت کی ہے، اس لیے اس سے عام طور پر ہر جگہ خاموشی نہ کرنے کا حکم نہیں نکالنا چاہیے۔ سادہ مطلب یہ ہے کہ نماز کے اندر ہر مقام کا اپنا طریقہ ہے: ابتدا میں دعا، پھر قرأت، اور اگلی رکعت میں براہ راست الحمد سے شروع کرنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری رکعت میں قرأت الحمد سے شروع کرنے کا عمل بیان ہوا۔
- دعائے استفتاح نماز کی ابتدا سے متعلق ہے، ہر رکعت سے نہیں۔
- نماز کے مختلف حصوں میں الگ الگ مسنون طریقے ہیں۔
