صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۷ - الحمد للہ حمداً کثیراً کی فضیلت
الحمد للہ حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۵۷
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا ، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ ، فَقُلْتُهَا . فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا ، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " .
انس روایت:
ایک شخص آیا اور نماز کی صف میں مل گیا اور اس کا سانس چڑھ گیا تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» یعنی ”سب تعریف اللہ کے لئے ہے بہت تعریف اور پاک اور برکت والی“، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہنے والا کون تھا جس نے یہ کلمات کہے؟“ سو قوم کے سب لوگ چپ ہو رہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے کہے یہ کلمات کیوں کہ اس نے کوئی بری بات نہیں کہی۔“ تو ایک شخص نے عرض کی کہ میں آیا اور میرا سانس چڑھ گیا تو میں نے ان کلمات کو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ ایک پر ایک گر رہے تھے کہ کون ان میں سے اس کو اوپر لے جائے“ (یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی صف میں آیا، اس کا سانس چڑھا ہوا تھا، تو اس نے کہا: الحمد للہ حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کلمات کس نے کہے؟ لوگ خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بتاؤ، اس نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ اس شخص نے بتایا کہ میں آیا تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا، اس لیے میں نے یہ کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس کلمے کو اوپر لے جانے میں سبقت کر رہے تھے۔ یہ حدیث نماز میں حمد، الحمد للہ حمداً کثیراً، اور ذکر کی قبولیت جیسے موضوعات سے متعلق ہے۔ یہاں صرف وہی کلمات بیان ہیں جو حدیث میں آئے، اس لیے ان میں اضافہ نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں اللہ کی پاکیزہ حمد کے کلمات اچھے ہیں جب وہ درست معنی رکھتے ہوں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ان کلمات میں کوئی بری بات نہیں تھی۔
- حمد کے سچے کلمات فرشتوں کے اوپر لے جانے کا سبب بنے۔
