صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۸ - اللہ اکبر کبیراً کی فضیلت

اللہ اکبر کبیراً والحمد للہ کثیراً کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۵۸

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ مِنِ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا ، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ذَلِكَ .

ابن عمر روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے کہ ایک شخص نے حاضرین میں سے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً» یعنی ”اللہ بڑا ہے، سب بڑائی اس کے واسطے ہے اور بہت تعریف ہے اس کی اور پاک ہے اللہ پاکی بولنا ہے صبح اور شام“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کلمے کہے؟ ”تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کی میں نے کہا یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تعجب آیا جب اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا جب سے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنی میں نے ان کلمات کو کبھی نہیں چھوڑا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ اسی دوران حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ اکبر کبیراً، والحمد للہ کثیراً، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلاً۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کلمات کس نے کہے؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں نے کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ان کلمات پر تعجب ہوا، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، میں نے ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔ یہ حدیث اللہ اکبر کبیراً، نماز میں ذکر، اور حمد و تسبیح کے کلمات کی فضیلت سے متعلق ہے۔ یہاں بھی بات صرف انہی الفاظ تک محدود رکھی جائے جو روایت میں آئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی بڑائی، حمد اور تسبیح کے کلمات نماز میں اچھے معنی رکھتے ہیں۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کے لیے آسمان کے دروازے کھلنے کا ذکر فرمایا۔
  • صحابی نے یہ بات سن کر ان کلمات کو اپنا معمول بنا لیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں