صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۹ - سوال کے جواب میں نمازوں کے اوقات
نمازوں کے اوقات کا سوال: فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء
صحیح مسلم : ۱۳۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۹
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ ، فَقَالَ : " وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کا وقت پوچھا گیا۔ فرمایا: ”نماز فجر کا وقت جب تک ہے کہ سورج کا اوپر کنارہ نہ نکلے اور ظہر کی نماز کا وقت جب ہے کہ آسمان کے بیچ سے آفتاب ڈھل جائے، جب تک عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کا وقت جب تک ہے کہ آفتاب زرد ہو جائے اور اس کا اوپر کا کنارہ ڈوب نہ جائے اور مغرب کی نماز کا وقت جب ہوتا ہے کہ آفتاب ڈوب جائے جب تک کہ شفق نہ ڈوبے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے نمازوں کے اوقات پوچھے گئے۔ جواب میں آپ صلى الله عليه وسلم نے ہر نماز کی حد بتائی۔ فجر کا وقت سورج کا اوپر کنارہ نکلنے تک ہے۔ ظہر کا وقت آفتاب کے ڈھلنے کے بعد سے عصر آنے تک ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے اور اس کا کنارہ ڈوبنے سے پہلے تک بیان ہوا۔ مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد شفق غائب ہونے تک ہے۔ عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔ یہ حدیث “پانچ نمازوں کے اوقات” سمجھنے کے لیے سیدھی اور ترتیب وار ہے۔ اس میں سوال و جواب کا انداز بھی ہے، اس لیے قاری کو بات آسانی سے یاد رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نمازوں کے اوقات سوال کے جواب میں واضح فرمائے۔
- ہر نماز کے وقت کی ایک پہچان بیان ہوئی ہے۔
- مغرب کا وقت سورج ڈوبنے سے شروع ہو کر شفق تک بتایا گیا ہے۔
