صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۱ - جہنم کی گرمی اور سردی کی حدیث

جہنم کی گرمی اور سردی کی حدیث: دو سانسوں کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۱

وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَهْوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ کی آگ نے اپنے پروردگار کے آگے شکایت کی اور عرض کی کہ اے رب! کھا گیا میرا ایک ٹکڑا دوسرے کو تو اس کو دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں، سو اسی وجہ سے ہے جو تم پاتے ہو شدت گرمی اور سردی کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث جہنم کی گرمی اور سردی کے بارے میں ایک بہت واضح بات بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے۔ پھر اسے دو سانس لینے کی اجازت دی گئی، ایک سردی میں اور ایک گرمی میں۔ اسی وجہ سے انسان دنیا میں سخت گرمی اور سخت سردی محسوس کرتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ موسم کی شدت کو صرف عام گرمی یا سردی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ بات آخرت کی یاد بھی دلاتی ہے۔ جہنم کی سانس کی حدیث انسان کو سنجیدہ بناتی ہے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی فکر پیدا کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شدید گرمی اور سخت سردی انسان کو آخرت کی یاد دلا سکتی ہیں۔
  • جہنم کی حقیقت کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • دنیا کی تکلیفیں انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں