صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۳ - جہنم کے دو سانس اور موسم کی شدت
جہنم کے دو سانس: سردی اور گرمی کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۳
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَتِ النَّارُ : رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ أَوْ زَمْهَرِيرٍ ، فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ نے کہا: اے میرے رب! میرا ایک ٹکڑا دوسرے کو کھا گیا سو مجھے سانس لینے کی اجازت دے۔ پس اس دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ سو جو پاتے ہو تم سردی سے وہ جہنم کی سانس ہے اور جو پاتے ہو تم گرمی سے وہ جہنم کی سانس ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث جہنم کے دو سانسوں کے بیان کو صاف انداز میں پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگ نے کہا کہ اے میرے رب، میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا گیا، مجھے سانس لینے کی اجازت دے۔ پھر اسے دو سانسوں کی اجازت دی گئی، ایک سردی میں اور ایک گرمی میں۔ حدیث کے مطابق جو سخت سردی یا زمہریر انسان محسوس کرتا ہے وہ جہنم کی سانس سے ہے، اور جو سخت گرمی یا حرارت محسوس ہوتی ہے وہ بھی جہنم کی سانس سے ہے۔ یہ بات انسان کو آخرت کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ جہنم کی سردی اور جہنم کی گرمی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کے موسم بھی نصیحت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت گرمی اور سخت سردی کو آخرت کی یاد کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
- حدیث میں جہنم کی گرمی اور سردی دونوں کا ذکر آیا ہے۔
- دنیا کی محسوس ہونے والی شدت انسان کو اللہ سے ڈرنے کی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔
