صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۵ - سخت دھوپ میں ظہر کی نماز
سخت دھوپ میں ظہر کی نماز کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا " .
خباب روایت:
ہم نے شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت دھوپ میں نماز پڑھنے کی (یعنی ظہر میں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہ فرمایا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت دھوپ میں نماز پڑھنے کی شکایت کی، یعنی ظہر کے وقت گرمی کی سختی محسوس ہوتی تھی۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شکایت کو قبول نہ فرمایا۔ یہ روایت بہت احتیاط کے ساتھ سمجھنے والی ہے، کیونکہ اس میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ سخت دھوپ میں نماز کی شکایت کی گئی اور اسے قبول نہیں کیا گیا۔ ظہر کی نماز اور گرمی کی حدیث ہمیں دکھاتی ہے کہ صحابہ نماز کی پابندی کرتے تھے، چاہے موسم مشکل ہو۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے معاملے میں صبر اور اتباع دونوں اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ سخت گرمی میں بھی نماز کی پابندی کرتے تھے۔
- نماز کے وقت آنے والی تکلیف کو سنجیدگی سے برداشت کیا جاتا تھا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو نماز کے معاملے میں اصل معیار سمجھا گیا۔
