صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۶ - اول وقت ظہر اور گرمی کی شکایت

اول وقت ظہر اور سخت دوپہر کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۶

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ عَوْنٌ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق : أَفِي الظُّهْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَفِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .

سیدنا خباب روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت دوپہر کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمائی۔ زبیر نے کہا: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا ظہر کی نماز کی شکایت تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اول وقت نماز ادا کرنے کی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور سخت دوپہر کی گرمی کی شکایت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا۔ روایت کے آخر میں زہیر کہتے ہیں کہ انہوں نے ابواسحاق سے پوچھا کہ کیا یہ ظہر کی نماز کے بارے میں تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر پوچھا کہ کیا اول وقت نماز ادا کرنے کے بارے میں تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس طرح یہ حدیث ظہر اول وقت اور سخت گرمی کے معاملے کو بیان کرتی ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ صحابہ کو گرمی محسوس ہوئی، انہوں نے عرض کیا، مگر اس خاص موقع پر شکایت قبول نہیں ہوئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر کی نماز کے وقت صحابہ کو گرمی کی سختی محسوس ہوتی تھی۔
  • حدیث میں اول وقت ظہر کا ذکر سوال و جواب کے ذریعے آیا ہے۔
  • نماز کے معاملے میں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست رہنمائی لیتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں