صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۲ - صلوٰۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر کی اہمیت
نماز وسطیٰ حدیث: نماز عصر کی اہمیت
صحیح مسلم : ۱۴۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲۲
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا ، أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ " ، شَكَّ شُعْبَةُ ، فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ ،
سیدنا علی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے دن ارشاد فرمایا: ”کافروں نے ہمیں نماز عصر سے روک رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں یا پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“ شعبہ کو گھروں اور پیٹوں میں شک ہو گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام نماز وسطیٰ، یعنی نماز عصر کی اہمیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا کہ کافروں نے ہمیں نماز عصر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ نماز عصر کا وقت ضائع ہونا معمولی بات نہیں۔ حدیث میں دعا کے سخت الفاظ آئے ہیں، مگر وہ اسی خاص موقع اور اسی رکاوٹ کے بارے میں ہیں جس کا ذکر متن میں موجود ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ نماز عصر کی حفاظت، نماز وقت پر پڑھنے کی کوشش اور صلوٰۃ وسطیٰ کا خیال رکھنا مسلمان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس روایت میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جب بیرونی رکاوٹ بہت سخت ہو تو نماز کے فوت ہونے کا غم اہل ایمان کے دل میں رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز عصر کی حفاظت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
- نماز فوت ہو جانے پر دل میں فکر اور غم ہونا چاہیے۔
- حدیث کے سخت الفاظ اسی واقعہ احزاب کے پس منظر میں آئے ہیں۔
