صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۳ - نماز وسطیٰ کے الفاظ کی وضاحت
صلوٰۃ وسطیٰ کی روایت: الفاظ کی امانت
صحیح مسلم : ۱۴۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ .
سیدنا قتادہ روایت:
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اور اس میں بغیر کسی شک کے «بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ» کے الفاظ ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۳ کا خلاصہ
یہ روایت بھی نماز وسطیٰ کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک اہم لفظی بات واضح کی گئی ہے۔ پچھلی روایت میں راوی کو گھروں اور پیٹوں کے الفاظ میں شک تھا، جبکہ اس روایت میں بغیر شک کے گھروں اور قبروں کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی روایت میں الفاظ کی امانت کا بہت خیال رکھا گیا۔ اصل پیغام پھر بھی نماز عصر کی اہمیت اور نماز وقت پر پڑھنے کی فکر ہے۔ عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ یہ روایت ایک ہی واقعہ کو زیادہ صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ صلوٰۃ وسطیٰ، نماز عصر اور غزوہ احزاب کے ذکر سے نماز کی پابندی کا احساس مضبوط ہوتا ہے، مگر اس متن سے کوئی الگ حکم نکال کر بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- یہ روایت نماز عصر کی اہمیت کے اسی مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- راوی کے شک اور بلا شک روایت میں فرق واضح کیا گیا ہے۔
