سنن نسائی حدیث ۴۷۴ - خندق میں صلاۃ وسطیٰ
صلاۃ وسطیٰ سے مشغول کر دینے کا واقعہ
سنن نسائی : ۴۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۷۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ " .
علی روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ خندق کے موقع پر) فرمایا: ”ان لوگوں (کافروں) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا“۔
سنن نسائی حدیث ۴۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا کہ ان لوگوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔ ترجمے میں یہ بات جنگ خندق کے موقع کے طور پر آئی ہے۔ حدیث کا اصل پیغام نماز کے وقت کی اہمیت اور صلاۃ وسطیٰ کی قدر ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشغول کر دیے جانے کا ذکر فرمایا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا فوت یا مؤخر ہو جانا معمولی بات نہیں۔ صلاۃ وسطیٰ، نماز عصر، نماز کا وقت اور جنگ خندق کی نماز جیسے سرچ الفاظ اس روایت سے متعلق ہیں۔ ہمیں متن کے اندر ہی رہتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ نماز کا وقت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے وقت کی حفاظت بہت ضروری ہے۔
- صلاۃ وسطیٰ کی اہمیت حدیث میں خاص طور پر آئی ہے۔
- مشغولیت نماز کے معاملے کو ہلکا نہیں بناتی۔
- صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ محفوظ کیے۔
