صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۱ - مغرب کی نماز کا وقت اور سنت طریقہ

مغرب کی نماز کا وقت: غروب کے بعد جلدی ادا کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۴۱

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا ، وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " .

رافع بن خدیج روایت:

ہم مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر پھرتے اور ہم سے ہر ایک اپنے تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا (یعنی اتنی روشنی ہوتی تھی)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مغرب کی نماز کا وقت ہے۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر واپس جاتے تو ہر آدمی اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز اتنی دیر سے نہیں پڑھی جاتی تھی کہ اندھیرا مکمل چھا جائے، بلکہ نماز کے بعد بھی کچھ روشنی باقی ہوتی تھی۔ عام زبان میں یوں سمجھیں کہ مغرب کا وقت شروع ہوتے ہی نماز کی طرف توجہ دی جاتی تھی۔ اس حدیث میں صرف وقت کا بیان ہے، اس سے کوئی زائد حکم یا وعدہ نکالنا درست نہیں۔ نماز کے اوقات کی پابندی، خاص طور پر وقتِ مغرب، بندے کے روزمرہ معمول کو اللہ کی عبادت سے جوڑتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد جلد ادا کی جاتی تھی۔
  • صحابہ کرام نماز کے وقت کو عملی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے۔
  • نماز کے بعد اتنی روشنی باقی تھی کہ تیر گرنے کی جگہ دیکھی جا سکتی تھی۔
  • حدیث میں مغرب کے وقت کی عملی پہچان بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں