صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۳ - عشاء کی نماز کا انتظار اور فضیلت
عشاء کی نماز کا وقت اور انتظار کرنے والوں کی خوشخبری
صحیح مسلم : ۱۴۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۴۳
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ : مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ " ، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .
عائشہ روایت:
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں دیر کی جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ نکلے یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ عورتیں اور لڑکے سو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد والوں سے جب نکلے کہ ”سوائے تمہارے کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔“ (یہ بشارت دی کہ لوگ خوش ہو جائیں) اور یہ واقعہ لوگوں میں اسلام پھیلنے سے پہلے کا تھا۔حرملہ نے اپنی روایت میں یہ بات زیادہ کی کہ ابن شہاب نے کہا: اور ذکر کیا مجھ سے راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو یہ جائز نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کا تقاضا کرو“ اور یہ جب فرمایا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عشاء کی نماز کا وقت اور اس کا انتظار ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کی، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد والوں کے پاس آئے اور فرمایا کہ اس نماز کا انتظار تمہارے سوا زمین والوں میں کوئی نہیں کر رہا۔ اس جملے میں انتظار کرنے والوں کے لیے خوشی کی بات ہے، مگر ساتھ ہی روایت میں یہ بھی آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کا تقاضا کرنا مناسب نہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ عشاء کی تاخیر کبھی ہوئی، مگر ادب، صبر اور جماعت کا لحاظ بھی ساتھ رہا۔ اس حدیث میں اسلام کے پھیلنے سے پہلے کے واقعے کا ذکر بھی موجود ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء کی نماز کبھی دیر سے بھی ادا کی گئی۔
- نماز کا انتظار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب کا پہلو بھی ضروری تھا۔
- حدیث میں عورتوں اور بچوں کے سو جانے کا ذکر ایک واقعی صورت کے طور پر آیا ہے۔
