صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۴ - عشاء میں معمولی تاخیر اور ہلکی نماز
عشاء کی نماز میں تھوڑی تاخیر اور نماز کو ہلکا رکھنا
صحیح مسلم : ۱۴۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۵۴
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا ، وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلَاةَ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ : يُخَفِّفُ .
جابر بن سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری مثل نماز پڑھا کرتے تھے اور عشاء کی نماز میں تمہاری بہ نسبت ذرا دیر کیا کرتے تھے اور نماز ہلکی پڑھتے تھے اور ابوکامل کی روایت میں تخفیف کا لفظ ہے۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح نماز پڑھتے تھے، مگر عشاء کی نماز میں تم سے کچھ دیر کرتے تھے، اور نماز ہلکی پڑھتے تھے۔ یہاں دو باتیں صاف ہیں: عشاء کی نماز کا وقت کبھی کچھ مؤخر ہوتا تھا، اور نماز کو اس انداز سے پڑھایا جاتا تھا کہ لوگوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ہو۔ حدیث میں “ہلکی نماز” کا مطلب متن کے اندر صرف اتنا ہے کہ نماز میں تخفیف تھی؛ اس سے اپنی طرف سے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ جو لوگ عشاء کی نماز کا وقت، عشاء کی تاخیر، یا جماعت میں آسانی کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت سادہ اور عملی ہے۔ اس میں عبادت کے ساتھ لوگوں کی حالت کا لحاظ بھی محسوس ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء کی نماز میں کچھ تاخیر کی جاتی تھی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو ہلکا رکھتے تھے۔
- جماعت میں لوگوں کی حالت کا خیال سمجھ میں آتا ہے۔
- حدیث میں تاخیر اور تخفیف دونوں کا بیان ہے۔
