صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۳ - عشاء میں تاخیر اور باتوں سے پرہیز
عشاء کی نماز کی حدیث: تاخیر، نیند اور بات چیت کا ادب
صحیح مسلم : ۱۴۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .
ابوبرزہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہ رکھتے تھے اگر عشاء میں آدھی رات تک تاخیر ہوتی اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتوں کو برا جانتے۔ شعبہ نے کہا کہ میں ان سے پھر ملا تو انہوں نے کہا: یا تہائی رات تک۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع عشاء کی نماز کا وقت اور عشاء کے آس پاس کے آداب ہیں۔ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں کچھ تاخیر کو برا نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ آدھی رات تک بھی تاخیر ہو جاتی۔ روایت کے آخر میں شعبہ کے دوبارہ پوچھنے پر تہائی رات کا ذکر بھی آیا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی صاف کہی گئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی نماز کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ آدمی ایسا معمول نہ بنائے کہ عشاء سے پہلے سو کر نماز چھوٹنے کا خطرہ ہو، یا عشاء کے بعد بے ضرورت گفتگو میں رات ضائع ہو۔ یہ حدیث عشاء کی نماز، نماز کے وقت، اور رات کے بہتر استعمال کے بارے میں سادہ مگر مضبوط رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء سے پہلے سونا پسندیدہ نہیں، کیونکہ اس سے نماز میں غفلت ہو سکتی ہے۔
- عشاء کے بعد غیر ضروری باتوں سے بچنے کی ترغیب ملتی ہے۔
- عشاء کی نماز میں کچھ تاخیر کا ذکر خود حدیث میں موجود ہے۔
- روایت میں آدھی رات اور تہائی رات دونوں الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
