صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۴ - عشاء کی تاخیر اور فجر کی قراءت
عشاء اور فجر کی حدیث: وقت، قراءت اور نماز کا ادب
صحیح مسلم : ۱۴۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۴
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ " .
ابوبرزہ اسلمی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تہائی رات میں پڑھتے تھے اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد باتیں کرنے کو برا جانتے تھے۔ اور نماز فجر میں سو آیتوں سے ساٹھ تک پڑھتے تھے اور ایسے وقت فارغ ہوتے کہ ایک دوسرے کا چہرہ پہچان لیتا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عشاء اور فجر دونوں کا ذکر آیا ہے۔ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تہائی رات میں پڑھتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کو برا جانتے تھے۔ اسی روایت میں فجر کی نماز کا حال بھی بتایا گیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم فجر میں سو سے ساٹھ آیتوں تک پڑھتے تھے، اور نماز سے فارغ ایسے وقت ہوتے کہ نمازی ایک دوسرے کا چہرہ پہچان لیتے۔ اس سے ایک متوازن بات سمجھ آتی ہے: عشاء کے معاملے میں نماز کو اہم رکھا جائے، اور فجر میں قراءت اور وقت دونوں کا خیال رکھا جائے۔ یہ حدیث عشاء کی نماز کا وقت، فجر کی قراءت، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے معمول کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا حدیث میں ناپسند بیان ہوا ہے۔
- فجر میں ساٹھ سے سو آیات تک قراءت کا ذکر آیا ہے۔
- فجر کے بعد لوگ ایک دوسرے کو پہچان لیتے تھے، یعنی وقت بہت واضح بیان ہوا۔
- نماز کے وقت اور نماز کے بعد کے معمول دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
