صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۵ - حاکم تاخیر کریں تو نماز وقت پر پڑھیں
نماز وقت پر پڑھنے کی حدیث: امام تاخیر کرے تو کیا کریں؟
صحیح مسلم : ۱۴۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۵
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ : " كَيْفَ أَنْتَ ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ : عَنْ وَقْتِهَا .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے امیر ہوں گے کہ نماز آخر وقت ادا کریں گے“ یا فرمایا: «نماز کو مار ڈالیں گے اس کے وقت سے۔» میں نے عرض کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو کیا حکم فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر ادا کر لینا۔ پھر اگر ان کے ساتھ بھی اتفاق ہو تو پھر پڑھ لینا کہ وہ تمہارے لئے نفل ہو جائیں گے۔“ اور خلف جو راوی ہے اس نے «عَنْ وَقْتِهَا» کا لفظ روایت نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی سبق بہت واضح ہے: نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ایسے امیر ہوں جو نماز کو آخر وقت تک مؤخر کریں، یا نماز کو اس کے وقت سے گویا مردہ کر دیں، تو تم کیا کرو گے؟ سیدنا ابوذرؓ نے حکم پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لینا۔ پھر اگر ان کے ساتھ بھی نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔ اس حدیث میں نماز وقت پر پڑھنے کی اہمیت بھی ہے اور جماعت کے ساتھ اچھا رویہ بھی۔ آدمی اپنی فرض نماز بچائے، اور اگر بعد میں جماعت ملے تو اسے جھگڑے یا انکار کا سبب نہ بنائے۔ یہ بات خاص طور پر ان لوگوں کے لیے رہنمائی ہے جو امام یا انتظامیہ کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا اصل ذمہ داری ہے۔
- اگر بعد میں امام کے ساتھ نماز ملے تو وہ نفل ہو سکتی ہے۔
- تاخیر کرنے والوں کی وجہ سے اپنی نماز ضائع نہیں کرنی چاہیے۔
- مسئلہ پیش آئے تو نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق نرم طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
