صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۶ - اپنی نماز کو محفوظ رکھنے کی تعلیم
نماز کو محفوظ رکھنے کی حدیث: وقت پر ادائیگی کا آسان سبق
صحیح مسلم : ۱۴۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا ، كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ " .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میرے بعد ایسے حاکم ہوں گے کہ وہ نماز کو مارڈالیں گے (یعنی آخر وقت پڑھیں گے) تو تم اپنی نماز اپنے وقت پر پڑھ لیا کرنا۔ پھر اگر انہوں نے وقت پر پڑھی تو خیر، نہیں تو وہ نماز جو ان کے ساتھ تم نے پڑھی وہ نفل ہو گئی اور نہیں تو تم نے اپنی نماز کو بچا لیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک عملی ہدایت دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد ایسے حاکم ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے، یعنی اسے آخر وقت تک مؤخر کریں گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ تم اپنی نماز اپنے وقت پر پڑھ لیا کرنا۔ اگر انہوں نے بھی وقت پر پڑھ لی تو بہتر، اور اگر تم نے ان کے ساتھ بعد میں نماز پڑھی تو وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہو تو بھی تم اپنی نماز بچا چکے ہو گے۔ اس حدیث میں نماز وقت پر پڑھنے کی حدیث، نماز کی حفاظت، اور امام کی تاخیر کے وقت درست عمل کا واضح جواب ہے۔ یہاں مقصد جھگڑا نہیں بلکہ اپنی فرض نماز کو وقت پر ادا کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز وقت پر پڑھ کر انسان اپنی فرض ذمہ داری ادا کر لیتا ہے۔
- حاکم یا امام کی تاخیر کو اپنی غفلت کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔
- بعد میں جماعت کے ساتھ نماز مل جائے تو اسے نفل سمجھا جا سکتا ہے۔
- حدیث میں نماز کو محفوظ رکھنے کا انداز بہت عملی ہے۔
