صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۷ - حاکم کی اطاعت اور نماز وقت پر
حاکم کی اطاعت اور نماز وقت پر پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي ، أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا ، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً " .
ابوذر روایت:
میرے دوست (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حاکم کی بات سنوں اور اس کا کہا مانوں اگرچہ ایک ہاتھ پیر کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں اپنے وقت پر نماز پڑھوں پھر اگر لوگوں کو پاؤ کہ وہ نماز پڑھ چکے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی محفوظ کر لی اور نہیں تو وہ تیرے لئے نفل ہو گئی (یعنی جو دوبارہ ان کے ساتھ پڑھی)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ آئی ہیں: حاکم کی بات سننا اور نماز کو وقت پر پڑھنا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں، اگرچہ حاکم ایسا غلام ہو جس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوں۔ ساتھ ہی یہ وصیت بھی فرمائی کہ نماز اپنے وقت پر پڑھوں۔ پھر اگر لوگوں کو پاؤں کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو میری نماز پہلے ہی محفوظ ہو چکی، اور اگر ان کے ساتھ نماز ملے تو وہ میرے لیے نفل ہو گی۔ اس متن میں اطاعت کی حدیث، نماز وقت پر، اور جماعت کے ساتھ نرم رویہ تینوں باتیں موجود ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اجتماعی نظم کو خراب کیے بغیر اپنی فرض نماز کی پابندی کی جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اطاعت کا حکم آیا ہے، مگر نماز کو وقت پر پڑھنے کی ذمہ داری بھی ساتھ بیان ہوئی ہے۔
- اپنی فرض نماز وقت پر پڑھ لینے سے نماز محفوظ ہو جاتی ہے۔
- بعد کی جماعت میں شامل ہونا نفل کے طور پر ہو سکتا ہے۔
- دینی عمل میں نظم اور نماز کے وقت دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔
