صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۸ - اقامت ہو تو جماعت میں شامل ہو جاؤ
نماز وقت پر پڑھو، پھر اقامت ہو تو جماعت کے ساتھ پڑھو
صحیح مسلم : ۱۴۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۸
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَضَرَبَ فَخِذِي ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قَالَ : مَا تَأْمُرُ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلِّ " .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”کیا کرے گا جب ایسے لوگوں میں رہ جائے گا جو نماز میں دیر کریں گے اس کے وقت سے؟“ تو انہوں نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر نماز ادا کر لینا اور اپنے کام کو چلے جانا پھر اگر تکبیر ہو اور تم مسجد میں ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کریں گے تو کیا کرو گے؟ انہوں نے حکم پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر ادا کر لینا، پھر اپنے کام کو چلے جانا۔ اگر بعد میں اقامت ہو اور تم مسجد میں موجود ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت صاف ہے: فرض نماز کو وقت پر ادا کرنا پہلے ہے۔ پھر اگر انسان مسجد میں ہو اور جماعت قائم ہو جائے تو جماعت میں شامل ہونا بہتر عمل ہے۔ اس میں نماز وقت پر پڑھنے، امام کی تاخیر، اقامت، مسجد اور جماعت کے آداب سب ایک عملی صورت میں بیان ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کا وقت آ جائے تو اسے مؤخر کرنے والوں کا انتظار لازم نہیں۔
- فرض نماز وقت پر پڑھنے کے بعد اپنے کام کو جا سکتے ہیں۔
- اگر مسجد میں موجود ہوں اور اقامت ہو جائے تو جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں۔
- حدیث میں مسئلے کا حل آسان اور جھگڑے سے بچانے والا ہے۔
