صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۹ - پڑھ چکا ہوں کہہ کر جماعت نہ چھوڑو
نماز پڑھ چکا ہوں، پھر جماعت ملے تو کیا کروں؟
صحیح مسلم : ۱۴۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۶۹
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ ، وَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ ، فَلَا أُصَلِّي " .
ابوالعالیہ روایت:
ابن زیاد نے ایک دن دیر کی اور سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈال دی، وہ اس پر بیٹھے اور میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے ہونٹ چبائے (یعنی افسوس اور غصہ سے) اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا جیسے تم نے پوچھا۔ سو انہوں نے میری ران پر مارا جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، جیسے تم نے مجھ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”نماز پڑھ لینا تو اپنے وقت پر۔ پھر اگر تجھ کو ان کے ساتھ بھی نماز ملے تو پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں پڑھ چکا ہوں اب نہیں پڑھتا“ (کہ اس سے جماعت میں پھوٹ پڑے گی)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوالعالیہ نے ابن زیاد کی طرف سے نماز میں تاخیر کا ذکر کیا۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اسی مسئلے پر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کا واقعہ بیان کیا، اور ابوذرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کا ذکر کیا۔ آخر میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت یہ آئی کہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز مل جائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو۔ اور یہ نہ کہو کہ میں تو پڑھ چکا ہوں، اب نہیں پڑھتا۔ اس حدیث میں نماز وقت پر پڑھنے کے ساتھ جماعت کی حکمت بھی ہے۔ اپنی فرض نماز پہلے ادا ہو چکی ہو تو بعد کی نماز نفل ہو سکتی ہے، مگر جماعت سے الگ رہنے کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ یہ حدیث خاص طور پر نماز میں تاخیر، دوبارہ جماعت، اور نفل نماز کے مسئلے پر رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز وقت پر پڑھنا چاہیے، خواہ دوسروں کی نماز دیر سے ہو۔
- بعد میں جماعت مل جائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
- میں پڑھ چکا ہوں کہہ کر جماعت سے الگ ہونے کا انداز پسندیدہ نہیں بتایا گیا۔
- حدیث میں عملی مسئلے کا جواب روایت در روایت محفوظ کیا گیا ہے۔
