صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۰ - دوبارہ جماعت نیکی کی زیادتی ہے

نماز وقت پر اور جماعت کے ساتھ: نیکی کی زیادتی کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۰

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ ؟ أَوَ قَالَ : كَيْفَ أَنْتَ ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ " .

ابوذر روایت:

کیا ہوگا جب تو باقی رہے گا ایسے لوگوں میں جو نماز میں اپنے وقت سے دیر کرتے ہیں۔ تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر اگر تکبیر ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لے، اس لئے کہ اس میں نیکی کی زیادتی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں وہی اہم ہدایت آئی ہے کہ اگر ایسے لوگوں میں رہو جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کرتے ہیں، تو تم نماز اپنے وقت پر پڑھ لو۔ پھر اگر تکبیر یا اقامت ہو جائے تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو، کیونکہ یہ نیکی کی زیادتی ہے۔ اس روایت میں نماز وقت پر پڑھنے کی پابندی بھی ہے اور جماعت کے ساتھ ملنے کی ترغیب بھی۔ انسان یہ نہ سمجھے کہ فرض پڑھ لی تو اب جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر جماعت قائم ہو اور موقع ہو تو شامل ہونا خیر کا اضافہ ہے۔ یہ حدیث امام کی تاخیر، نماز کی حفاظت، اور دوبارہ جماعت کی نفل حیثیت کو آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز وقت پر ادا کرنا اصل عمل ہے۔
  • اقامت کے بعد جماعت میں شامل ہونا خیر میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
  • دوسروں کی تاخیر کے باوجود اپنی نماز کو محفوظ رکھا جائے۔
  • دوبارہ نماز کو جھگڑے کے بجائے نیکی کا موقع سمجھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں