صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۱ - جمعہ میں حاکم تاخیر کرے تو کیا کریں

حاکم جمعہ کی نماز دیر کرے تو حدیث کی رہنمائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۱

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً " ، قَالَ : وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ .

ابوالعالیہ روایت:

میں نے عبداللہ بن صامت سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حاکموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو آخر وقت ادا کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ عبداللہ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا کہ میرے درد ہونے لگا اور کہا کہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی بات کو پوچھا تو انہوں نے بھی میری ران پر مارا اور کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات کو پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مسنون وقت پر نماز پڑھ لیا کرو اور ان کے ساتھ کی نماز کو نفل کر دیا کرو۔“ (راوی نے) کہا کہ عبداللہ نے کہا کہ مجھ سے ذکر کیا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوالعالیہ نے عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حاکموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو آخر وقت تک مؤخر کرتے ہیں۔ جواب میں عبداللہ بن صامتؓ نے بتایا کہ یہی سوال سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نماز اپنے مسنون وقت پر پڑھ لیا کرو، اور ان کے ساتھ جو نماز ہو اسے نفل بنا لیا کرو۔ اس روایت میں جمعہ، حاکموں کے پیچھے نماز، نماز میں تاخیر، اور نفل نماز کا مسئلہ ایک خاص صورت میں آیا ہے۔ اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی نماز کے وقت کی حفاظت کرے، اور اگر بعد میں حاکموں کے ساتھ نماز پڑھنی پڑے تو اسے نفل سمجھ لے۔ متن میں یہی عملی ہدایت دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اگر حاکم نماز کو مؤخر کریں تو اپنی نماز مسنون وقت پر ادا کی جائے۔
  • ان کے ساتھ بعد کی نماز کو نفل قرار دینے کی ہدایت آئی ہے۔
  • سوال کرنے والوں نے مسئلہ صحابی کے ذریعے نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت سے سمجھا۔
  • متن جمعہ کے دن حاکموں کے پیچھے نماز کی خاص صورت بیان کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں