صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۲ - جماعت کی نماز پچیس درجے افضل
نماز جماعت کی فضیلت: پچیس درجے زیادہ اجر
صحیح مسلم : ۱۴۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ ، أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ ، بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلے شخص کی نماز سے پچیس درجہ بڑھ کر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے بہتر ہے۔ یہ بہت مختصر مگر بڑی مؤثر حدیث ہے۔ اس میں نماز جماعت کی فضیلت صاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ متن میں صرف یہی بات آئی ہے، اس لیے اس کی تشریح بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے کہ باجماعت نماز کا مقام اکیلی نماز سے بڑھا ہوا ہے۔ جو شخص مسجد یا جماعت کے ساتھ نماز کا موقع پاتا ہے، اسے اس فضیلت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ حدیث نماز باجماعت، جماعت کی نماز کا اجر، اور اکیلی نماز کے مقابلے میں جماعت کی قدر کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت کی نماز اکیلی نماز سے پچیس درجے افضل بیان ہوئی ہے۔
- حدیث مختصر ہے مگر نماز باجماعت کی قدر واضح کرتی ہے۔
- اکیلے نماز درست ہو سکتی ہے، مگر جماعت کا اجر زیادہ بتایا گیا ہے۔
- مسلمان کو جماعت کے موقع کو اہم سمجھنا چاہیے۔
