صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۳ - فجر پڑھنے والا اللہ کی پناہ میں

فجر کی نماز پڑھنے والا اللہ کی پناہ میں ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹۳

وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ ، فَيُدْرِكَهُ ، فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .

جندب بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے سو اللہ اپنی پناہ کا حق جس سے طلب کرے گا اس کو نہ چھوڑے گا اور اس کو جہنم میں ڈال دے گا۔“ (یعنی اگر اس کو ستاؤ گے جو صبح کی نماز پڑھ چکا ہے تو گویا اللہ کی پناہ میں خلل ڈالا اور اس کا حق تلف کیا)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۳ کا خلاصہ

یہ حدیث فجر کی نماز کی عظمت اور صبح کی نماز پڑھنے والے مسلمان کے احترام کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے۔ پھر سخت تنبیہ فرمائی کہ اللہ اپنی پناہ کے حق کے بارے میں جس سے مطالبہ کرے گا، اسے نہیں چھوڑے گا، یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دے گا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ فجر کی نماز صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ نمازی کو اللہ کی پناہ سے جوڑا گیا ہے۔ اس لیے فجر پڑھنے والے مسلمان کو ستانا، اس کے حق کو پامال کرنا، یا اس کے ساتھ ظلم کرنا بہت خطرناک بات ہے۔ فجر کی نماز، اللہ کی پناہ، اور مسلمان کے احترام کا موضوع اس روایت میں نہایت واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی نماز پڑھنے والے کے لیے اللہ کی پناہ کا ذکر آیا ہے۔
  • مسلمان کو دوسرے نمازی کے حق سے ڈرنا چاہیے۔
  • فجر کی نماز کی پابندی بہت معزز عمل ہے۔
  • کسی مسلمان کو ناحق تکلیف دینا سخت خطرناک ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں