صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۴ - صبح کی نماز اور اللہ کی ذمہ داری
صبح کی نماز پڑھنے والا اللہ کی ذمہ داری میں
صحیح مسلم : ۱۴۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹۴
وحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ ، يُدْرِكْهُ ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .
انس بن سیرین روایت:
میں نے سیدنا جندب قسری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔ پس اللہ تم سے اپنے کسی ذمہ کا سوال نہیں کرے گا تو جس سے اللہ نے اپنے ذمہ کا مطالبہ کر لیا تو اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں صبح کی نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں بہت بڑی بات فرمائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ فرمائی کہ اللہ تم سے اپنے ذمہ کے بارے میں مطالبہ نہ کرے، کیونکہ جس سے اللہ نے اس بارے میں مطالبہ کیا اسے پکڑ لے گا، پھر اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ اس روایت کا موضوع فجر کی نماز، اللہ کی ذمہ داری، اور نمازی مسلمان کی حرمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر پڑھنے والے شخص کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ حدیث ہمیں نماز کی پابندی بھی سکھاتی ہے اور دوسروں کے حق کے بارے میں ڈر بھی پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبح کی نماز پڑھنے والے کے لیے اللہ کی ذمہ داری کا ذکر ہے۔
- کسی نمازی مسلمان کو ناحق نقصان پہنچانا سخت خطرناک ہے۔
- فجر کی نماز مسلمان کی زندگی میں خاص مقام رکھتی ہے۔
- اللہ کے حق اور بندوں کے حق کے معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
