صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۹ - نماز کے انتظار کا اجر
نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہے
صحیح مسلم : ۱۵۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰۹
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ ، مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ " ، قُلْتُ : مَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ : يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک آدمی نماز کا منتظر اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے تب تک وہ نماز ہی میں ہے اور فرشتے اس کے لئے کہتے ہیں، یا اللہ! اس کو بخش اور اس پر رحم کر یہاں تک کہ وہ چلا جائے یا «حدث» کرے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں پوچھا «حدث» کیا ہے؟ تو کہا: پھسکی چھوڑے یا گوز مارے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بندہ جب اپنی نماز کی جگہ بیٹھا نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے۔ اس دوران فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ اسے بخش دے، اے اللہ اس پر رحم فرما۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ حالت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ وہاں سے چلا نہ جائے یا حدث نہ کرے۔ راوی نے پوچھا کہ حدث کیا ہے؟ جواب دیا گیا کہ پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔ اس روایت کا اصل پیغام بہت سادہ ہے: نماز کا انتظار معمولی وقت نہیں، بلکہ نیکی والا وقت ہے۔ مگر حدیث نے ساتھ ہی حد بھی بتا دی کہ حدث یا جگہ چھوڑنے سے یہ خاص کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کا منتظر اپنی جگہ بیٹھا رہے تو نماز میں شمار ہوتا ہے۔
- فرشتے اس کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
- یہ فضیلت جگہ چھوڑنے یا حدث تک رہتی ہے۔
- حدیث میں حدث کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے۔
