صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۵ - فجر کے بعد نماز کی جگہ بیٹھنے کی سنت
فجر کے بعد بیٹھنے کی سنت: نماز کے بعد سکون اور باوقار مجلس
صحیح مسلم : ۱۵۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ . ح ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَثِيرًا ، " كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ " .
سماک بن حرب روایت:
میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ بہت، پھر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہتے صبح کے بعد جب تک کہ آفتاب نہ نکلتا۔ پھر جب سورج نکلتا اٹھ کھڑے ہوتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر ذکر کیا کرتے تھے کفر کے زمانہ کا اور ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فجر کے بعد کے معمول کا ذکر ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت بیٹھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد اپنی نماز کی جگہ سے نہیں اٹھتے تھے، یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔ پھر جب سورج نکلتا تو آپ اٹھتے۔ اسی مجلس میں صحابہ کبھی زمانہ جاہلیت کی باتیں کرتے، ہنستے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہتے۔ اس حدیث سے فجر کے بعد نماز کی جگہ بیٹھنے کی سنت، مسجد کی پرسکون مجلس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ اس میں کسی اضافی عمل کا ذکر نہیں، اس لیے بات اسی حد تک رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد اپنی جگہ بیٹھے رہتے تھے۔
- فجر کے بعد کا وقت سکون اور وقار کے ساتھ گزارنا پسندیدہ ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جائز گفتگو پر مسکراتے تھے۔
- مسجد کی مجلس میں نرم مزاجی اور وقار دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔
