صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۶ - فجر کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھنا

فجر کے بعد مصلیٰ پر بیٹھنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا " .

جابر بن سمرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے جب تک کہ آفتاب خوب نہ نکل آتا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک مختصر مگر اہم عمل بیان ہوا ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ سورج اچھی طرح نکل آتا۔ اس سے فجر کے بعد بیٹھنے کی سنت کا پتہ چلتا ہے۔ حدیث میں یہی عمل بیان ہے، اس لیے اسے اسی انداز میں سمجھنا چاہیے کہ نماز کے بعد فوراً اٹھ جانا ضروری نہیں، بلکہ بندہ اپنی جگہ سکون سے بیٹھ سکتا ہے۔ یہ وقت دن کی شروعات کا وقت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمیں وقار، ترتیب اور عبادت کے بعد سکون سکھاتا ہے۔ فجر کے بعد مصلیٰ پر بیٹھنے کی حدیث اسی وجہ سے بہت تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کے بعد کچھ دیر اپنی جگہ بیٹھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا۔
  • نماز کے بعد سکون اور وقار کے ساتھ وقت گزارنا اچھا ہے۔
  • دن کی شروعات عبادت کے اثر کے ساتھ ہونی چاہیے۔
  • حدیث میں سورج خوب نکلنے تک بیٹھنے کا ذکر آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں