صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۷ - فجر کے بعد بیٹھنے کی روایت
فجر کے بعد بیٹھنے کی حدیث: روایت کے الفاظ میں ہلکا فرق
صحیح مسلم : ۱۵۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۷
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَقُولَا : حَسَنًا .
سماک روایت:
سماک سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے لیکن انہوں نے «حَسَنًا» کے الفاظ نہیں کہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلے مضمون ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سماک سے وہی روایت مروی ہے، مگر انہوں نے حَسَنًا کا لفظ نہیں کہا۔ اس طرح یہ روایت ہمیں حدیث کے الفاظ کی حفاظت اور نقل میں دقت کا احساس دلاتی ہے۔ اصل مضمون وہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہتے تھے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ راوی نے الفاظ کے فرق کو بھی بیان کیا، تاکہ بات بالکل صاف رہے۔ فجر کے بعد بیٹھنے کی حدیث پڑھتے ہوئے ہمیں یہی سمجھنا چاہیے کہ اصل عمل ثابت ہے، مگر الفاظ کے بیان میں معمولی فرق نقل کیا گیا ہے۔ یہ حدیث علم حدیث کی امانت داری کا بھی اچھا نمونہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے بہت احتیاط کی۔
- فجر کے بعد بیٹھنے کا مضمون اس روایت میں بھی برقرار ہے۔
- الفاظ کا فرق بیان کرنا علمی امانت کی علامت ہے۔
- دینی بات نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
