صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۲ - رکوع کے بعد قنوت نازلہ
رکوع کے بعد قنوت نازلہ: مظلوم مؤمنوں کے لیے دعا
صحیح مسلم : ۱۵۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا ، إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ ، فَقُلْتُ : أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ ، قَالَ : فَقِيلَ : وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا .
ابوہریرہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھا۔ جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو اپنی قنوت میں کہتے: یا اللہ! چھوڑ دے ولید بن ولید کو، یا اللہ! چھوڑ دے سلمہ بن ہشام، کو یا اللہ! چھوڑ دے عیاش بن ابی ربیعہ کو، یا اللہ! چھوڑ دے ضعیف مؤمنوں کو، یا اللہ! (قبیلہ) مضر کو سختی سے روندھ ڈال، یا اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط ڈال۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا چھوڑ دی۔ تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا چھوڑدی تو لوگوں نے کہا کہ دیکھتے نہیں ہو کہ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے وہ تو آ گئے (یعنی کافروں کے پاس سے چھوٹ آئے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث قنوت نازلہ کی بہت واضح روایت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت پڑھی۔ جب آپ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو قنوت میں ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کی رہائی کے لیے دعا فرماتے۔ اسی دعا میں قبیلہ مضر کے لیے سختی اور یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی کا ذکر بھی آیا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی۔ لوگوں نے بتایا کہ جن کے لیے دعا ہو رہی تھی وہ آ گئے۔ اس سے قنوت نازلہ، رکوع کے بعد دعا، اور مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کا ایک صاف نمونہ ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت پڑھی۔
- قنوت میں خاص مظلوم مؤمنوں کے نام لے کر دعا کی گئی۔
- جب دعا کا سبب ختم ہوا تو وہ خاص دعا چھوڑ دی گئی۔
- حدیث میں قنوت نازلہ کا تعلق ایک خاص حالت سے بیان ہوا ہے۔
