صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۲ - رعل ذکوان اور عصیہ پر لعنت
قنوت نازلہ: رعل، ذکوان اور عصیہ پر ایک ماہ لعنت
صحیح مسلم : ۱۵۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۵۲
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
انس بن مالک روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت کی ایک ماہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لعنت کرتے تھے رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل پر انہوں نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت کی۔ اس قنوت میں آپ رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل پر لعنت کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ روایت مختصر ہے مگر قنوت نازلہ کے موضوع کو صاف بیان کرتی ہے۔ اس میں مدت ایک ماہ ہے، دعا میں خاص قبائل کے نام ہیں، اور وجہ نافرمانی بتائی گئی ہے۔ قنوت نازلہ کی دعا، رعل ذکوان عصیہ حدیث، اور ایک ماہ قنوت جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے متعلق ہیں۔ اس حدیث سے بات بڑھا کر عمومی دعوے نہیں کرنے چاہییں، بلکہ متن کے مطابق یہی کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاص معاملے میں ایک ماہ قنوت کی اور ان قبائل پر لعنت کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت کی۔
- رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل کا نام لے کر لعنت کا ذکر آیا۔
- حدیث میں ان قبائل کی نافرمانی کا سبب بیان ہوا ہے۔
- یہ روایت قنوت نازلہ کے خاص موقع سے متعلق ہے۔
