صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۷ - فجر میں ایک ماہ قنوت

فجر میں ایک ماہ قنوت: رعل اور ذکوان پر بددعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۴۷

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وأبو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَيَقُولُ : عُصَيَّةُ ، عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھا رعل اور ذکوان کے لئے بددعا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ عصیہ نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت پڑھی۔ اس قنوت میں آپ رعل اور ذکوان کے لیے بددعا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اس روایت میں قنوت نازلہ کا وقت، جگہ اور مدت تینوں باتیں صاف بیان ہیں: فجر کی نماز، رکوع کے بعد، ایک مہینہ۔ فجر کی قنوت کی حدیث، قنوت نازلہ، اور رعل ذکوان عصیہ جیسے سرچ الفاظ اسی حدیث سے جڑتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تفصیل اس ایک روایت سے نکالی جائے، بلکہ جو بات متن میں آئی ہے وہی بیان کی جائے۔ یہاں اصل بات خاص واقعے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قنوت پڑھنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت پڑھی۔
  • رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا کا ذکر آیا۔
  • عصیہ کے بارے میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کا بیان ہے۔
  • حدیث قنوت نازلہ کے خاص موقع کو بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں