صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۷ - غفار و اسلم کے لیے دعا

نماز میں دعا اور بددعا: غفار کے لیے مغفرت، اسلم کے لیے سلامتی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۵۷

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز میں فرمایا: ”یا اللہ! لعنت کر بنی لحیان اور ذکوان اور عصبہ پر کیوں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ غفار کی اللہ مغفرت کرے اور سالم کو آفتوں سے بچائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۵۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز میں دعا فرمائی۔ آپ نے بنی لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت کی، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اسی دعا میں آپ نے فرمایا کہ غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کو اللہ سلامتی دے۔ اس حدیث میں قنوت میں دعا اور بددعا دونوں پہلو آتے ہیں۔ ایک طرف نافرمانی کرنے والوں کے لیے سخت الفاظ ہیں، دوسری طرف غفار اور اسلم کے لیے اچھی دعا ہے۔ قنوت میں دعا، غفار غفر اللہ لہا، اور اسلم سالمہا اللہ جیسے سرچ الفاظ اس روایت کے ساتھ آتے ہیں۔ حدیث کا پیغام متن کے اندر ہے: نماز میں خاص نام لے کر دعا بھی ہوئی اور بددعا بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں خاص قبائل کا نام لے کر دعا فرمائی۔
  • غفار کے لیے مغفرت کی دعا کی گئی۔
  • اسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی گئی۔
  • بنی لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت کا ذکر آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں