صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۱ - سو جانے پر فجر کی قضا نماز
سو جانے پر فجر کی قضا نماز کیسے ادا کی جائے؟
صحیح مسلم : ۱۵۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ كلاهما ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا ، فِيهِ الشَّيْطَانُ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، وَقَالَ يَعْقُوبُ : ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک شب ہم آخر رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اترے اور نہ جاگے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اونٹ کی نکیل پکڑے کہ یہ مکان ہے شیطان کا۔“ پھر ہم نے ایسا ہی کیا (یعنی اس میدان سے باہر ہو گئے) پھر پانی منگایا اور وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور یعقوب نے سجدہ کی بجائے «صَلَّى» کہا۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی اور صبح کی فرض نماز ادا کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قضا نماز اور سفر میں نماز کا خیال ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخر رات میں اترے، پھر سب پر نیند غالب آ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس جگہ سے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ شیطان کی جگہ ہے۔ پھر پانی منگوایا گیا، وضو کیا گیا، دو رکعت نماز پڑھی گئی اور اس کے بعد صبح کی فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کی گئی۔ اس سے عام فہم بات یہ سمجھ آتی ہے کہ اگر نیند کی وجہ سے فجر رہ جائے تو آدمی گھبراہٹ کے بجائے نماز کی ادائیگی کی طرف آئے۔ قضا نماز، فجر کی نماز اور نماز کا وقت جیسے الفاظ اسی حدیث کے بنیادی پہلو ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیند کی وجہ سے نماز رہ جائے تو جاگنے کے بعد نماز ادا کی جائے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی قضا سے پہلے وضو اور دو رکعت ادا کیں۔
- ایسی جگہ سے ہٹ جانا بھی ذکر ہوا جہاں غفلت پیش آئی۔
- نماز رہ جانے پر اصل توجہ نماز ادا کرنے پر ہونی چاہیے۔
