صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۶ - نماز بھول جائے تو کیا کرے؟

نماز بھول جائے تو قضا نماز کب پڑھی جائے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶۶

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَأَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جو نماز کو بھول جائے تو جب یاد آئے ادا کر لے یہی اس کا کفارہ ہے۔“ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور قائم کر تو نماز میرے یاد کرنے کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۶ کا خلاصہ

یہ حدیث قضا نماز کے بارے میں بہت مختصر اور صاف رہنمائی دیتی ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے، وہ جب اسے یاد آئے تو نماز پڑھ لے، اس کا کفارہ یہی ہے۔ اسی روایت میں قتادہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت بھی پڑھی کہ نماز قائم کرو میری یاد کے لیے۔ اس حدیث کا پیغام عام آدمی کے لیے بہت آسان ہے: اگر نماز بھول گئی تو اسے معمولی بات سمجھ کر چھوڑا نہ جائے، بلکہ یاد آتے ہی ادا کیا جائے۔ قضا نماز، نماز بھول جانا، نماز یاد آنے پر پڑھنا اور نماز کا کفارہ اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ یہاں اصل حکم نماز کی فوری ادائیگی سے متعلق ہے، نہ کہ کسی اضافی عمل کو لازمی بنانے سے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز بھول جائے تو یاد آتے ہی ادا کی جائے۔
  • اس حدیث میں اسی ادائیگی کو اس کا کفارہ کہا گیا ہے۔
  • نماز اللہ کی یاد کے لیے قائم کی جاتی ہے۔
  • بھول جانے کے بعد نماز کو مزید مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں