صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۷ - بھولی ہوئی نماز کی ادائیگی
بھولی ہوئی نماز یاد آتے ہی پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۵۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶۷
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ .
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں وہی حدیث مگر اس میں یہ لفظ نہیں کہ ”اس کا سوائے اس کے کوئی کفارہ نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۷ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون پر ہے کہ نماز بھول جائے تو اسے یاد آنے پر ادا کیا جائے۔ اس بیان میں خاص بات یہ ہے کہ روایت میں وہ جملہ ذکر نہیں کیا گیا جس میں کفارے کی بات آتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے اسی حد تک رہنا چاہیے کہ بھولی ہوئی نماز کو یاد آتے ہی پڑھا جائے۔ قضا نماز، نماز بھول جانا اور یاد آنے پر نماز ادا کرنا اس روایت کے بنیادی الفاظ ہیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام میں نماز کا معاملہ یاد دہانی سے جڑا ہوا ہے؛ آدمی کو جب اپنی بھولی ہوئی نماز یاد آئے تو وہ اسے چھوڑ کر آگے نہ بڑھ جائے بلکہ ادا کرے۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر نماز کے معاملے میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھولی ہوئی نماز یاد آتے ہی ادا کی جائے۔
- اس روایت میں کفارے والا جملہ ذکر نہیں ہوا۔
- نماز یاد آنے کے بعد اسے نظرانداز نہ کیا جائے۔
- حدیث کا مضمون سادہ اور عملی ہے۔
