صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۹ - غفلت یا نیند سے نماز فوت ہو جائے
غفلت یا نیند سے نماز رہ جائے تو یاد آتے ہی پڑھیں
صحیح مسلم : ۱۵۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶۹
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، أَوْ غَفَلَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ ، يَقُولُ : أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی سو جائے یا نماز سے غافل ہو جائے تو چاہیے کہ جب یاد کرے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِى» قائم کرو نماز کو میری یاد کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز سے سو جائے یا غافل ہو جائے تو جب یاد کرے اسے پڑھ لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ذکر کیا کہ نماز میری یاد کے لیے قائم کرو۔ اس روایت میں قضا نماز کے ساتھ ایک بہت نرم مگر سنجیدہ بات آتی ہے: نماز کا تعلق اللہ کی یاد سے ہے، اس لیے یاد آنے کے بعد اسے چھوڑنا درست رویہ نہیں۔ حدیث نیند اور غفلت کی صورت بیان کرتی ہے، اس لیے اسے جان بوجھ کر نماز ترک کرنے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ عام زندگی میں اگر کسی سے نماز رہ جائے تو اسے چاہیے کہ یاد آتے ہی نماز ادا کرے اور آئندہ وقت کا خیال رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیند یا غفلت سے نماز رہ جائے تو یاد آتے ہی ادا کی جائے۔
- نماز اللہ کی یاد کے لیے قائم کی جاتی ہے۔
- غفلت کا علاج نماز کی طرف واپس آنا ہے۔
- حدیث میں جان بوجھ کر نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
