صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۲ - قبلہ رخصت

سواری پر نفل نماز اور فأينما تولوا فثم وجه الله

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱۲

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ ، قَالَ : وَفِيهِ نَزَلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آتے تھے جدھر اس کا منہ ہوتا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی مقدمہ میں اتری یہ آیت کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» ”کہ تم جدھر منہ کرو ادھر ہی منہ ہے اللہ کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سواری پر نفل نماز کے ساتھ ایک قرآنی آیت کا ذکر بھی آیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، سواری کا رخ جدھر ہوتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فأينما تولوا فثم وجه الله» یعنی تم جدھر بھی رخ کرو وہاں اللہ کا رخ ہے۔ اس روایت میں اصل موضوع سفر میں سواری پر نماز ہے، خاص طور پر اس حال میں کہ سواری اپنا رخ بدلتی رہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نفل نماز کے لیے شریعت نے آسانی رکھی۔ آیت کا ذکر بھی اسی روایت کے اندر آیا ہے، اس لیے اسے اسی بیان کے ساتھ جوڑ کر سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں سواری کے رخ کے ساتھ نفل نماز کا ذکر ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر قرآن کی آیت بیان کی۔
  • حدیث کا تعلق مکہ سے مدینہ کے سفر اور سواری پر نماز سے ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں