صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۳ - آیت نماز

فأينما تولوا فثم وجه الله: سواری پر نفل نماز کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱۳

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ ، وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّه» ”جہاں بھی تم پھرو وہاں اللہ کا چہرہ ہے“ اور کہا: اس مسئلہ کے بارے میں یہ نازل ہوئی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت کے قریب ہے، مگر اس میں خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» تلاوت کی اور کہا کہ یہ اسی مسئلے کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہاں مسئلہ وہی ہے کہ سفر میں سواری پر نماز پڑھتے وقت سواری کا رخ جس طرف ہو، نفل نماز اسی رخ پر ادا کی گئی۔ عام الفاظ میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ سفر میں عبادت کے لیے آسانی رکھی گئی ہے، مگر بات کو اسی نفل نماز اور سواری کے حال کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ اس روایت میں اصل زور آیت کے تذکرے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وضاحت پر ہے، نہ کہ کسی الگ واقعے پر۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آیت کو سواری پر نفل نماز کے مسئلے کے ساتھ بیان کیا گیا۔
  • سفر میں سواری کے رخ کے مطابق نماز کا ذکر ہے۔
  • روایت کے اندر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی توضیح کو الگ اہمیت دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں