صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۴ - سواری سمت
گدھے پر نماز کی حدیث: سفر میں سواری پر نفل
صحیح مسلم : ۱۶۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر نماز پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ خیبر کی طرف تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔ یہ روایت سواری پر نماز کے باب میں آتی ہے، مگر اس کے الفاظ کو بہت احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ اس میں صرف گدھے پر نماز پڑھنے اور رخ خیبر کی طرف ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے سفر میں سواری پر نفل نماز کی رخصت کا مضمون سامنے آتا ہے، جیسا قریب کی روایات میں بھی آتا ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل صحابہ نے دھیان سے دیکھا اور نقل کیا، حتیٰ کہ سواری اور سمت تک محفوظ رکھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو مشاہدے کے ساتھ بیان کیا۔
- روایت میں سواری اور رخ دونوں کا ذکر محفوظ ہے۔
- اسے سواری پر نفل نماز کے باب میں سمجھنا چاہیے۔
