صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۶ - اتباع سنت
سواری پر نفل نماز اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اتباع
صحیح مسلم : ۱۶۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱۶
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جدھر اس کا منہ ہو۔ عبداللہ بن دینار نے کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۱۶ کا خلاصہ
یہ حدیث سواری پر نماز کے عمل کو پھر بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، جدھر وہ سواری رخ کرتی۔ پھر عبداللہ بن دینار نے یہ بھی بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ اس میں دو باتیں صاف ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل، اور ایک صحابی کا اس عمل کی پیروی کرنا۔ سواری پر نفل نماز کا مسئلہ سفر کی آسانی سے جڑا ہوا ہے۔ حدیث میں فرض نماز کا ذکر نہیں، اس لیے اسے نفل نماز کے باب ہی میں رکھنا مناسب ہے۔ اس روایت کی خوبصورتی یہ ہے کہ سنت صرف نقل نہیں ہوئی، بلکہ صحابی کے عمل میں بھی نظر آئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کی۔
- سواری پر نماز میں سواری کے رخ کا ذکر ہے۔
- حدیث کو نفل نماز اور سفر کی آسانی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
