صحیح مسلم حدیث ۱۶۵ - ایمان کی مٹھاس کے تین سبب
حلاوت ایمان حدیث: ایمان کی مٹھاس کیسے ملتی ہے؟
صحیح مسلم : ۱۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عمر وَمحمد بن بشار جميعا ، عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَال ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الإِيمَانِ ، مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " .
سیدنا انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین باتیں ہیں، جس میں ہوں گی، وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور حلاوت پائے گا۔ ایک تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبت رکھے، دوسرے یہ کہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے واسطے دوستی رکھے (یعنی دنیا کی کوئی غرض نہ ہو نہ اس سے ڈر ہو)، تیسرے یہ کہ کفر کو پھر اختیار کرنا بعد اس کے اللہ نے اس کو نجات دی اس کو اتنا برا جانے جیسے آگ میں پڑنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث ایمان کی مٹھاس کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تین باتیں بتائیں جن کے ذریعے انسان حلاوت ایمان پاتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت ہر دوسری محبت سے زیادہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی انسان سے محبت صرف اللہ کے لیے ہو، نہ کسی دنیاوی فائدے کے لیے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ نے کفر سے نجات دی ہو تو دوبارہ کفر کی طرف جانا اتنا برا لگے جیسے آگ میں پڑنا برا لگتا ہے۔ اس حدیث میں ایمان کی مٹھاس، اللہ کے لیے محبت، اور محبت رسول صلى الله عليه وسلم جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ بات سادہ ہے: ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، دل کی پسند اور ناپسند بھی اس میں شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔
- کسی سے محبت اللہ کے لیے کرنا ایمان کی مٹھاس کا سبب بتایا گیا ہے۔
- کفر کی طرف پلٹنا ایسا ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسند ہے۔
- ایمان کا مزہ دل کی محبت اور ناپسندیدگی سے بھی جڑا ہے۔
