صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۱ - بیٹھ کر نفل نماز کا بیان
بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث اور رات کی نفل نماز
صحیح مسلم : ۱۷۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۰۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِك عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
عبداللہ بن شقیق روایت:
میں فارس میں بیمار ہوا تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا (پھر جب مدینہ میں آیا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز بیٹھ کر پڑھتے اور آخر تک حدیث ذکر کی۔ (یعنی جو اوپر مذکور ہوئی)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بیٹھ کر نفل نماز ہے۔ سیدنا عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فارس میں بیمار ہوئے تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ بعد میں انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک صاف بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام عبادت کے معاملے میں اندازے پر نہیں چلتے تھے بلکہ اہل علم سے پوچھتے تھے۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حدیث، نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا، اور رات کی نماز جیسے سوالات میں یہ روایت رہنمائی دیتی ہے کہ عبادت میں طریقہ جاننا بھی دین کی سنجیدگی کا حصہ ہے۔ اس روایت میں اصل زور پوچھنے، سمجھنے اور نبوی عمل کو بنیاد بنانے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی عمل میں الجھن ہو تو اہل علم سے پوچھنا بہتر طریقہ ہے۔
- بیماری کی حالت میں عبادت کے طریقے کے بارے میں رہنمائی لینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- رات کی نماز کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبوی عمل نقل ہوا۔
