صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۲ - آخر شب کا وتر
آخر شب کا وتر: نماز وتر کے وقت کی صاف رہنمائی
صحیح مسلم : ۱۷۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۶۲
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، وَفِيهِ فَقَالَ : بَهْ ، بَهْ ، إِنَّكَ لَضَخْمٌ .
انس بن سیرین روایت:
میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور اوپر والی روایت کے مثل بیان کیا اور اتنا زیادہ کیا کہ وتر ایک رکعت پڑھتے آخر شب میں اور اس میں یہ بھی ہے کہ ٹھہرو! ٹھہرو! تم موٹے آدمی ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز وتر کے وقت اور رات کی نماز کے طریقے سے متعلق ہے۔ انس بن سیرین نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہی سوال کیا جو پچھلی روایت میں آیا تھا۔ اس روایت میں یہ بات بڑھ کر آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب میں ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بات پوری سننے کی تنبیہ بھی کی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی مسئلہ سمجھنے میں تحمل ضروری ہے۔ یہاں اصل توجہ رات کی نماز، وتر کی ایک رکعت اور آخر شب کی عبادت پر ہے۔ اگر کوئی رات کے آخری حصے میں اٹھتا ہے تو اس وقت وتر پڑھنے کا ذکر اس روایت میں موجود ہے۔ اس حدیث میں فجر سے پہلے دو رکعت کے قریب وقت کا پہلو بھی پچھلی روایت کی طرح موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
- اس روایت میں آخر شب میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔
- دینی بات سمجھنے کے لیے پوری حدیث سننا ضروری ہے۔
- نماز کے وقت اور انداز میں نبوی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
