صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۳ - رات کی نماز دو دو رکعت
رات کی نماز دو دو رکعت: نماز شب اور وتر کا آسان طریقہ
صحیح مسلم : ۱۷۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۶۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : مَا مَثْنَى مَثْنَى ؟ قَالَ : أَنْ تُسَلِّمَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب تجھے معلوم ہو کہ صبح آ پہنچی تو ایک رکعت وتر پڑھ لے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو رکعت کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتا جائے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث رات کی نماز دو دو رکعت پڑھنے کے واضح طریقے کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ پھر جب آدمی سمجھے کہ صبح قریب آ رہی ہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو رکعت کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے۔ اس سے نماز شب کا طریقہ عام فہم انداز میں سامنے آتا ہے۔ جو شخص تہجد یا رات کی نفل نماز پڑھنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ حدیث بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں لمبی بحث نہیں، بلکہ عمل کا صاف طریقہ ہے: دو رکعت پڑھو، سلام پھیرو، پھر آخر میں وتر پڑھو جب صبح کا اندیشہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز دو دو رکعت پڑھنے کا طریقہ حدیث میں صاف بیان ہے۔
- ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے۔
- صبح قریب ہو تو ایک رکعت وتر پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- رات کی عبادت میں ترتیب اور وقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
