صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۷ - آخر رات کا وتر افضل

آخر رات کا وتر: تہجد اور وتر کے وقت کی بہترین رہنمائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۶۷

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ، ثُمَّ لِيَرْقُدْ ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .

جابر روایت:

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو کوئی ڈرے کہ آخر رات میں نہ اٹھ سکے گا پس چاہیئے کہ وتر پڑھ لے پھر سو جائے اور جس کو رات کو اٹھنے کا یقین ہو وہ آخر میں وتر پڑھے اس لئے کہ آخر رات کی قرأت ایسی ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۷۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں وتر کے وقت کو انسان کی حالت کے ساتھ جوڑ کر سمجھایا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ڈرے کہ آخر رات میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ وتر پڑھ کر سو جائے۔ اور جسے رات کو اٹھنے کا یقین ہو، وہ آخر رات میں وتر پڑھے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آخر رات کی قرأت میں حاضری ہوتی ہے، اور یہ افضل ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر میں جلدی یا تاخیر کا معاملہ انسان کی بیداری پر بھی منحصر ہے۔ جو شخص تہجد کے لیے اٹھنے کا عادی نہیں، وہ وتر چھوڑنے کے بجائے پہلے پڑھ لے۔ اور جو اٹھ سکتا ہے، وہ آخر شب میں وتر ادا کرے۔ حدیث کا پیغام آسان، عملی اور عبادت میں احتیاط والا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جو آخر رات نہ اٹھ سکے، وہ وتر پڑھ کر سو سکتا ہے۔
  • جو اٹھنے کا یقین رکھتا ہو، وہ آخر رات میں وتر ادا کرے۔
  • آخر رات کی قرأت کو حدیث میں حاضر کی گئی قرأت بتایا گیا ہے۔
  • وتر کو ضائع کرنے کے بجائے اپنی حالت کے مطابق وقت منتخب کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں