صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۶ - اللہ کے لیے قرض دینے کی دعوت
قرض حسنہ کی حدیث: اللہ کے لیے دینے کی ترغیب
صحیح مسلم : ۱۷۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۷۶
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، يَقُولُ : مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ .
سعد بن سعید روایت:
سعد بن سعید اسی سند سے بیان کرتے ہیں وہی حدیث مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور کہتا ہے: ”کون مجھے قرض دے جو کبھی مفلس نہ ہو گا اور نہ کبھی کس پر ظلم کرے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی سند کے ساتھ اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک اضافہ آیا ہے۔ حدیث میں بیان ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے: کون مجھے قرض دے جو کبھی مفلس نہ ہو گا اور نہ کبھی کسی پر ظلم کرے گا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع اللہ کے لیے دینا اور رات کے وقت کی دعا کے ساتھ جڑا ہوا مضمون ہے۔ حدیث کے الفاظ میں ہاتھ پھیلانے کا ذکر آیا ہے، مگر اس کی کیفیت بیان نہیں کی گئی، اس لیے اس بارے میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔ یہاں اصل عملی بات یہ ہے کہ بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے، دعا کرے، اور اللہ کے لیے دینے کے معاملے میں بخل سے بچے۔ متن مختصر ہے، اس لیے بات بھی اسی دائرے میں رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں اللہ کے لیے قرض دینے کی دعوت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں فقر اور ظلم کی نفی کے ساتھ اللہ کی بے نیازی کا پہلو آیا ہے۔
- دونوں ہاتھ پھیلانے کا ذکر ہے، مگر کیفیت بیان نہیں کی گئی۔
- بندے کو اللہ کے لیے دینے میں سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔
