صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۰ - دعائے تہجد کی قریب الفاظ روایت

دعائے تہجد کی تائیدی روایت: الفاظ قریب قریب ہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۱۰

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ .

ابن عباس روایت:

مسلم نے کہا اور ہم سے شیبان نے روایت کی ان سے مہدی نے کہ میمون کے فرزند ہیں ان سے عمران قصیر نے، ان سے قیس نے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث۔ اور لفظ ان راویوں کے قریب قریب ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے وہی دعائے تہجد نقل کی اور بتایا کہ الفاظ پچھلی روایات کے قریب قریب ہیں۔ اس روایت کا مقصد نئی دعا بیان کرنا نہیں، بلکہ اسی مضمون کی ایک اور سند اور الفاظ کی قربت دکھانا ہے۔ اصل موضوع دعائے تہجد کی روایت اور اس کی لفظی تائید ہے۔ اس سے قاری کو یہ سمجھ آتا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف لمبی تفصیل ہی نہیں، بلکہ سند اور الفاظ کی حفاظت بھی اہم ہے۔ اس روایت میں دعا کے مضمون کو دوبارہ کھول کر نہیں بتایا گیا، اس لیے وضاحت کو پچھلی دعا کے دائرے میں رکھنا چاہیے: اللہ کی حمد، ایمان، توکل، رجوع اور مغفرت۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی دعا کئی سندوں سے نقل ہو سکتی ہے۔
  • روایت میں الفاظ کے قریب ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
  • حدیث کے متن اور سند دونوں کی حفاظت کی گئی۔
  • دعائے تہجد کا اصل مضمون اللہ سے مغفرت اور رجوع ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں